Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras and Hazarajat...The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they are facing on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness and disinformation...... To further awareness against violence, disinformation and discrimination, we have launched a sister Blog for youths and youths are encouraged to share their stories and opinions; Young Pens

Saturday, July 7, 2012

خوب است ۔ ۔ ۔خوب است


ہفتہ 7 جولائی 2012



میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں۔—اے ایف پی فائل فوٹو

پانی تقسیم چوک سے آرچرڈ ہاؤس کی طرف جانے والی سٹرک پہ مڑیں تو پہاڑی کے دامن میں ڈھیروں چمکتے جگنو سامنے آ جاتے ہیں ۔ کچھ تو اس قدر نزدیک کہ ہاتھ بڑھا کر مٹھی میں قید کیے جا سکیں ۔

کوئٹہ میں یہ تمام جگنو ہزارہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ دبیز قالینوں میں دبے گھر ان لوگوں کی درویش صفتی کے عکاس ہیں، نہ مکینوں کو کسی کی باتیں چبھتی ہیں نہ ہی گھر میں کوئی نوکدار چیز ملتی ہے۔ رات کی روٹی اسی دسترخوان میں لپیٹ کر سو جاتے ہیں اور صبح اسی کا ناشتہ کر کے نکل جاتے ہیں۔

ایک ایسے شہر میں جہاں سے 1935 کا زلزلہ ابھی تک گیا نہیں، ہزارہ لوگ وہ جگنو ہیں جو اپنے مخصوص “خوب است۔ خوب است” سے پورے شہر کو اجالتے پھرتے ہیں۔

ہزارہ کے بارے میں پورے یقین سے کچھ کہنا تو ممکن نہیں مگر ہو سکتا ہے یہ لوگ 740ء میں خلیفہ وقت کے ہاتھوں شہید ہونے والے حضرت زید کی اولاد میں سے ہو ں، جو مزید استحصال سے بچنے کے لیے جارحیا تک منتشر ہوئے اور پھر مختلف مسلمان حملہ آوروں کے ہمراہ یہاں پہنچے ۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سیاہ پوش خانمیں ، ایرانی تاریخ سے کسی نکتہ ء اعتراض کی مانند خارج ہوئی ہوں ، قاف لیگ میں شامل نہ ہوئی ہوں اور پھر اس شہر میں قافلوں نے پڑاؤ ڈال لئے ہوں ۔

یہ بھی گمان کیا جا سکتا ہے کہ وسط ایشیا میں جب آل رسول پہ قافیہ تنگ ہوا تو ان لوگوں نے یہاں ہجرت کی۔ ان تمام باتوں سے بے نیاز ، کوئٹہ بہرحال تقریباً ایک ڈیڑھ صدی سے ان کا مسکن ہے۔

جذبوں میں حلاوت اور محبتوں میں مسابقت کے یہ اصحاب کہف اب کوئٹہ کے ایک غار میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس غار کا نام ہزارہ ہاؤسنگ سوسائٹی ہے۔ آج سے چھ سال ادھر ایک شادی کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا تو مجھے ان کی وسعت قلبی کا احساس ہوا ۔ نہ دولہے کی والدہ کو خیال آیا کہ میں پنجابی ہوں اور نہ ہی دولہن کی ماں کو میرا اہلسنت و الجماعت کا مسنون طریقہ نظر آیا۔

دونوں طرفین نے میری بھر پور پذیرائی کی ۔ مہندی پہ فارسی کے گیت ایک طرف اور پنجابی کے ٹپے دوسری طرف دم بدم چلتے رہے۔

اس وقت مہذب دینا میں ثقافتی حساسیت اتنی عام نہیں ہوئی تھی اور کچھ بوری بند لاشوں کا رجحان بھی نہیں تھا ، لہذا میں نے دولہے کی بابت دریافت کیا۔ پتہ چلا کہ سوئیڈن میں برسرِورزگار ہے۔ پھر دولہے کے ایک دوست کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ جرمنی میں ہے۔

تھوڑی دیر میں مجھے لگا کہ یہ کوئٹہ نہیں شائد سیالکوٹ کا کوئی نواحی قصبہ ہے جس میں ہر شخص بالواسطہ یا بلاواسطہ پردیس سے منسلک ہے۔ گفتگو ذرا آگے بڑھی تو پتا چلا کہ یہ ہجرت کسی سنت کا اتباع نہیں اور نہ ہی اللہ کے فضل کی جستجو ہے! مردِ مومن مرد حق نے ۱۹۸۰ کے عشرے میں جو پنیری لگائی تھی آج وہ بہار دکھا رہی ہے۔ آج کے یہ اصحاب کہف کسی رومی سپاہی سے نہیں بلکہ اپنے ہی نبی اور ان کے صحابہ کے سپاہیوں سے خوفزدہ ہیں۔

جاتے وقت دلہن کی سہیلیوں نے میرے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پہ مہندی لگا کر ایک چھوٹی سی پگڑی جما دی ۔۔۔۔ میں نے جواباً کہا۔۔۔۔”میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں” اور سارے میں خوب است خوب است کی پس پردہ موسیقی پھیل گئی ۔

پہلے محرم کے جلوس پہ بم پھٹے پھر چہلم پہ نا معلوم افراد کی فائرنگ کی خبریں آنا شروع ہوئیں ۔ اور اب ہر روز کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ہزارہ زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے۔ یہ سفر لگ بھگ پانچ سات سالوں کی کہانی ہے۔

مگر یہ بم دھماکے اور فریقہ واریت اتنی تکلیف دہ نہیں جتنی وہ بے حسی جس کا مظاہرہ ہم تما م لوگ بحثیت قوم کر رہے ہیں۔ اپنے آسودہ گھروں میں بیٹھ کر اس واقعہ کو بیرونی ہاتھ سے جوڑ دینا آسان ہے مگر انتہا پسندی کے جن کو بوتل میں بند کرنا مشکل۔
شادی کی اس تقریب کا جواب آج پوری ہزارہ قوم کا سوال ہے۔ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں۔ مگر شاید اب “خوب است” کہنے والا کوئی بچا ہی نہیں۔

No comments:

Post a Comment