Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras and Hazarajat...The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they are facing on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness and disinformation...... To further awareness against violence, disinformation and discrimination, we have launched a sister Blog for youths and youths are encouraged to share their stories and opinions; Young Pens

Thursday, April 26, 2012

کوئٹہ: مبینہ خود کش حملہ آور ہلاک


آخری وقت اشاعت: جمعـء 27 اپريل 2012 ,‭ 21:39 GMT 02:39 PST



فائرنگ سے ایک اور شخص زخمی ہوا ہے

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پولیس نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو ہلاک کر دیاہے۔ پولیس نے مرنے والے کو خودکش حملہ آورقرار دیاہے اور کہا کہ ہزارہ ٹاؤں کے علاقے میں دہشت گردی کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق جمعرات کی رات کو کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن کے قریب کرانی روڈ پر پولیس نے ناکہ بندی کے دوران ایک شخص کو اس وقت گولی مار کرک کردیا جب وہ پولیس ناکہ کے قریب پہنچا۔

فائرنگ سے ایک اور شخص زخمی ہوا ہے جنہیں فور ی طور پر بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کردیاہے جہاں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

تاہم علاقے کے ایس پی فرید خان نے کہاہے کہ پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والا شخص خودکش حملہ آور تھا جو ہزارہ ٹاؤن کی طرف جا رہا تھا بقول انکے پولیس نے بروقت کاروائی کر کے ہزارہ قبیلے کے خلاف دہشت گردی کی ایک اور کوشش کو ناکام بنادی ہے۔

بم ڈسپوزل اسکوارڈ کے نمائند ے نے کہا کہ خودکش جیکٹ میں حملہ آور نے پانچ کلو بارودی مواد نصب کیا تھااگر دھماکہ ہوتا تو بڑی تباہی ہوجاتی۔

واقعہ کے بعد پولیس اور فرنٹیر کور نے علاقے کو گھیرے میں لیکر شہر میں سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کردیے ہیں یاد رہے تین روز قبل بھی کوئٹہ میں پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔مقامی اخبارات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں لشکرجھنگوی کے صوبائی ترجمان علی شیرحیدری بھی شامل تھے۔

یاد رہے کہ دارلحکومت کوئٹہ میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے مختلف واقعات میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ ترکا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا۔ بعد میں ان میں سے اکثر واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی۔

No comments:

Post a Comment