Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras and Hazarajat...The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they are facing on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness and disinformation...... To further awareness against violence, disinformation and discrimination, we have launched a sister Blog for youths and youths are encouraged to share their stories and opinions; Young Pens

Thursday, November 10, 2011

بلوچستان حکومت کی شیعہ مخالف سازش!!خود کش حملہ آور کو شیعہ ظاہر کرنے کی کوشش ناکام

جمعرات, 10 نومبر 2011 15:08

بلوچستان حکومت نے ایک مرتبہ پھر شیعہ مخالف سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جسکے نتیجہ میں یہ بات منظر عام پر آئی ہے کہ کوئٹہ میں عید کے دوسرے روز ہزارہ ٹاؤن میں امام بارگاہ کے باہر ہونے والے خود کش بم دھماکے میں ملوث ناصبی دہشت گرد کو شیعہ ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کی ہے جبکہ ناصبی دہشت گرد خود کش حملہ آورکو مجلس وحدت مسلمین ڈسٹرکٹ جعفر آباد کے سیکرٹری کا بیٹا ظاہر کرنے کی بھی ناکام اور گھناؤنی سازش کی ہے۔


شیعت نیوز کی خصوصی رپورٹنگ کے مطابق بلوچستان پولیس نے کوئٹہ میں عید کے دوسرے روزہزارہ ٹاؤن میں امام بارگاہ پر ہونے والے خود کش حملہ میں ہلاک ہونے والے ناصبی وہابی دہشتگرد کو شیعہ اور مجلس وحد ت مسلمین کے ضلعہ جنرل سیکرٹری کا بیٹا ظاہر کرنے کی گھناؤنی اور ناکام کوشش کی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے ناصبی وہابی دہشت گرد گروہوں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جو کہ امریکی وصیہونی آلہ کار ہیں اور کئی دہائیوں سے ملک میں شیعہ نسل کشی میں مصروف عمل ہیںکی ایماء پر کوئٹہ میں عید کے دوسرے روز علمدار روڈ پر ہونے والے خود کش حملہ میں واصل جہنم ہونے والے ناصبی وہابی دہشت گرد کو شیعہ ظاہر کرتے ہوئے اسے سکندر علی نامی شخص کا بیٹا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سکندر علی مجلس وحدت مسلمین کا ضلعی جنرل سیکرٹری ہے تاہم مصدقہ ذرائع سے موصول ہونے والی تحقیقات سے یہ راز افشاں ہو چکا ہے کہ سکندر علی نامی کوئی بھی شخص مجلس وحدت مسلمین بلوچستا ن میں کسی بھی ضلع میں موجود نہیں ہے تاہم عہدیدار ہونا تو دور کی بات ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں شیعیان بلوچستان گذشتہ کئی دہائیوں سے امریکی وصیہونی آلہ کار دہشت گرد گروہوں کالعد م سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی دہشت گردوں کے مظالم کا نشانہ بن رہے ہیں اور ملک بھر میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے ،اسی اثنا ء میں حکومت بلوچستان کی جانب سے ناصبی وہابی خود کش حملہ آور کو شیعہ قرار دینا اور اسے کسی ایسے فرد کا بیٹا قرار دینا جس کا کوئی وجود بھی نہیں ایک گھناؤنی سازش اور شیعہ دشمنی کی کھلی مثال ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ عید القربان کے دوسرے روز بلوچستان کے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں ہزارہ ٹاؤن میں واقع امام بارگا ہ کے باہر خود کش حملہ آور کا پاؤ ں پھسل جانے سے امام بار گاہ کے باہر ہی دھماکہ ہو گیا تھا جس کے بعد بلوچستان حکومت کی ایماء پر کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی دہشت گردوں کو تحفظ دینے کے لئے ایسی من گھڑت خبریں میڈیا پر لائی جا رہی ہیں جس سے تحقیقات کا رخ موڑ دیا جائے اور اصل دہشت گردوں کو گرفتار نہ ہونے دیا جائے۔
دوسری جانب یہ بات قابل ذکر ہے کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع جعفر آباد کے سیکرٹری جنرل کا نام ظفر علی ہے جن کاکوئی بھی بیٹا نہیںہے ۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات رحیم شا ہ دوپاسی نے شیعت نیوز کے نمائندے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ میں ہزارہ ٹاؤن میں خود کش حملہ آور مجلس وحدت مسلمین ضلع جعفر آباد کے سیکرٹری جنرل کا بیٹا نہیں ہے کیونکہ حکومت نے جس شخص کو جعفر آباد کا ضلعی جنرل سیکرٹری ظاہر کیا ہے اس نام کا کوئی بھی آدمی نہ تو پہلے کبھی مجلس وحدت مسلمین میں تھا اور نہ ہی آج موجود ہے اور نہ اس نام کے کسی آدمی کا مجلس وحدت مسلمین کے کسی عہدیدار کی حیثیت سے کوئی تعلق ہے ۔
انہوںنے مزید کہا کہ ضلع جعفر آباد کے سیکرٹری جنرل کا نام ظفر علی ہے اور ان کا کوئی بھی بیٹا نہیں ہے تاہم یہ بات حیرت انگیز ہے کہ حکومت بلوچستان اور بلوچستان پولیس کیونکر یہ تاثر دے رہے ہیں اور میڈیا پر ایسی نیوز چلوا رہے ہیں کہ خود کش حملہ آور کی لاش اس کے باپ نے وصول کر لی ہے اور اس کا تعلق مجلس وحدت سے ہے؟؟؟؟
انہوںنے حکومت بلوچستان اور بلوچستان پولیس کی تعصبانہ ذہنیت اور شیعہ دشمنی کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدر پاکستان آصف علی زرداری،وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان حکومت کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے جو ایک طرف تو شیعیان بلوچستان کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے جبکہ دوسری طرف ملت جعفریہ کے عمائدین کے خلاف گھناؤنی سازشوں میں بھی مصروف عمل ہے۔
انہوںنے واضح کیا کہ ملت جعفریہ خود کش حملہ کو حرام سمجھتی ہے جبکہ ملت جعفریہ کی بے داغ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ملت جعفریہ پاکستان کی ایک مظلوم ملت ہے اور کسی کے خلاف بھی دہشت گردی کرنے کو ترجیح نہیں دیتی اور دہشت گردانہ کاروائیوں کو حرام سمجھتی ہے تاہم ایسے حالات میں بلوچستان حکومت اور پولیس کی جانب سے ملت جعفریہ کے خلاف گھناؤنی سازشیں کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہیںکہ حکومت بلوچستان کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی اور طالبان دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے امریکی و صیہونی ایماء پر کام کر رہی ہے جسے روکنا چاہئیے۔

Shiitenews.com

No comments:

Post a Comment